daairay …

دائرے
لکھنا ، کسی تمہید باندھنے کے اہتمام کے بغیر ہی ہو تو اچھا ہے ۔ جو بات سامنے آئے ، لکھتے جاؤ۔ قلم جو بھی لکھے ،لکھے ۔ قوسیں، دائرے جو بھی بیل بوٹے بنانا چاہیں, بنانے دیں ۔ کو ئی روک ٹوک نہ ہو ۔ ذہن کو ،خیالات کو چھوٹ مل جائے ۔ ذہن کے کل پرزے درست رہنے کے لئے یہ ضروری ہے ورنہ روکنے ، دبانے ، چیک کرنے سے رفتہ رفتہ زندگی کی حرارت ماند پڑ جاتی ہے اور رفتہ رفتہ، پھر زنگ بھی لگ ہی جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ٹوٹل تباہی ۔ مکمل، مکمل ۔
میں نے اپنا ارتھوڈونٹسٹ بدل دیا ہے ۔ ایک تو وہ پہلے والا دور بہت تھا۔ بالکل شہر کے دوسرے کنارے پر ۔ اور اس کے علاوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر میں اُس کی پریکٹس خراب کرنا نہیں چاہتی ۔آنکھیں تو ویسے بھی رفتہ رفتہ ہی کھلتی ہیں ۔ دانتوں کے ڈاکٹر کے سامنے بس منہ کھول کر بیٹھنا ہوتا ہے دیکھنے بات کرنے کا موقعہ نہیں ملتا ۔ ابو ظہبی کے زمانے میں ہمارے گھر سے لگے گھر میں ڈاکٹر شرما رہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔یہ دوائیوں والے ڈاکٹر نہیں تھے ۔ بس بہت پڑھ لکھ گئے تھے ۔ بقول مسز شرما ایک رات دانت کے درد سے انہوں نے بالکل بھی سونے نہیں دیا۔ صبح صبح اُنہیں دبئی جانا ضروری ہو گیا کیونکہ اُن کے دانتوں کے ڈاکٹر کا دفتر جمیرہ میں تھا۔ ہمارے پیارے ڈاکٹر شرما کو بات اچھی طرح گھول گھول کر کرنے کی عادت تھی ۔ ڈاکٹر کو بھی انہوں نے رو رو کر اپنی داستان سنانا چاہی جس پر اُن کے فرنچ ڈاکٹر نے اُن سے بڑے پیار کے لہجے میں کہا “ شٹ اپ اینڈ اوپن یور ماؤتھ “ اُن کے لئے یہ ناقابلِ معافی بات تھی ۔ کئی دن ،ہر آئے گئے کو اس بد تمیزی کا قصہ سناتے رہے ۔ ہتکِ عزت کا مقدمہ ہوتے ہوتے رہ گیا
خیر ، اس کو آپ بس برسبیلِ تذکرہ سمجھئے ۔
ہمیں بچپن سے دوسری اور باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صبح مین اُٹھنے کے بعد اور رات میں سونے سے پہلے دانتوں کو برش کرنا ضروری ہے ۔ بچپن میں تو خیر یہ بھی ڈراوا ملتا تھا کہ اگر منہ صاف نہ کیا تو رات میں چوہا ہونٹ کُتر لے گا یا زبان کھا جائے گا ۔ معصوم دِل دہل تو ضرور جاتے تھے مگر ان ڈراووں کا فائدہ بھی تھا ۔ بڑا ہوتے ہوتے یہ عادت بھی مزاج کا حصہ بن جاتی تھی ۔
مگر اور بڑا ہونے کے بعد پتہ چلا کہ ایک اورتھوڈونٹسٹ سے رابطے میں رہنا ضروری ہے اور جب رابطے میں ہوئے تو اُس نے کہا ہر چھ ماہ بعد آنا ضروری ہے کہ دانتوں کی صفائی ( جیب کی صفائی کے ساتھ ساتھ) ہو اور اگر کچھ غیر معمولی بات نظر آئے تو حالات پر قابو پایا جائے اور یوں حالات قابو میں رہتے ہیں ۔
تو آج میرے نئے ڈینٹسٹ سے میری پہلی ملاقات تھی۔ ادھیڑ عمر ،ہمدرد اور ہنس مکھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ یہ تھا میرا آج کا امپریشن۔ دو مشورے جن کا دانتوں سے کوئ تعلق نہیں تھا یونہی مفت میں دے دئیے ۔ وٹامن سی کی کریم جلد کو صاف اور صحت مند رکھتی ہے اور وٹامن ڈی ضرور کھاؤ ۔ ناخن ۔ مضبوط اور بالوں میں چمک کے لئے۔ ھمممم !! سوچنے کی بات ہے ۔ !
گھر آنے کے بعد آئنے کے سامنے کھڑے ہو کر میں نے اپنے بالوں کا جائزہ لیا کہ کہیں روکھے پھیکے تو نہیں ؟
بالکل بھی روکھے نہیں تھے ۔ صحت کی چمک سے اچھے بھلے لگ رہے تھے
پھر ؟
شائید یہ کومپلیمینٹ تھا جو ذرا سا منہا ہو گیا ۔ خیر ۔ مشورہ اچھا تھا۔
کچھ لوگوں کے لئے رات ، رات نہیں دن ہوتی ہے۔ میرا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ھے ۔ جوں جوں دن گزرتا ہے میری انرجی لیول اونچی ہوتی جاتی ہے لکھنا اور پڑھنا، دونوں ہی کام رات کی خاموشی اور سکون مانگتے ہیں ۔ دن کے کام بھی ایک طرح سے تخلیقی ہی ہیں ۔ کھانا پکانا بھی آرٹ ہے ۔ گھر کی سجاوٹ اور رکھ رکھاؤ بھی عورت کے تخلیقی جوہر ہی ہیں مگر ان کے لئے کسی خاموش اور خوابناک فضا کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جتنی لکھنے پڑھنے کے لئے ۔
رات آرام کے لئے اور دن کام کے لئے ۔ مگر کچھ بھی ہو ، میں اپنے اہم کام رات ہی میں کرنا پسند کرتی ہوں ، جب ہر طرف خاموشی اور سناٹا اور سکون ہوتا ہے ۔ خاموش گھر میں بند دروازوں کے نیچے سے نائٹ لائیٹس کی نیون روشنی گھر کو کوئی دوسری ہی دنیا بنا دیتی ہے ۔ مٰیں جب آفس پرنٹر کی ٹرے سے اپنی پرنٹ ہوئی کاپیاں اُٹھانے جاتی ہوں تو راستے میں کچن اور ڈائینگ ایریا بھی آتا ہے پھر بڑے ہال نما کمرے میں میری کرافٹ کی میز ہے ایک طرف اور عین درمیان میں ٹیبل ٹینس کی بڑی میز رکھی ہے ۔ وہاں سے گزرنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے اس لئے کہ رات میں یہ سب کسی بھلے خواب کی فضا اوڑھ لیتی ہیں اور یہاں سے دبے پاؤں گزرتے ہوئے کرافٹ ٹیبل پر رکھی ، کچھ مکمل کچھ نا مکمل چیزوں کو چھو نا اچھا لگتا ہے ۔ جیسے ان میں خوابیدہ زندگی باہر نکلنے ، خود کو منوانے کے لئے منتظر ہو ، پُر سکون انتظار ! ٹیبل ٹینس کے آس پاس چھوٹی سی سفید گیند کی پنگ اس نیون روشنی میں کہیں ٹھہری لگتی ہے ۔
اپنا پرنٹ آؤٹ لے کر واپسی پر کھانے کی میز پر بچھے پلیس میٹ ، درمیان میں رنر اور اس پر نمک کالی مرچ کے چھوٹے چھوٹے شیشے – دوسرے کنارے پر گلابی رنگ کے پھولوں کی جھکی ہوئی ٹہنی ! اورکڈز ! ایک زمانہ تھا کہ میں بھی اورکڈ سوسائیٹی کی ممبر تھی مگر پھر دل اُچٹ گیا ، بھر گیا وغیرہ وغیرہ ۔ ایک سال ایک بہت کمیاب رنگ کے اورکڈز خریدے مگر وہ زیادہ چلے نہیں ۔ پہلے پھول جھڑے – عام طور پر پھول جھڑنے کے بعد پودا سو جاتا ہے مگر زندہ رہتا ہے اور پھول آنے کے اگلے موسم کا انتظار کرتا ہے مگر ان نیلے رنگ کے پھولوں میں کوئی جنیٹک خرابی تھی کہ پھول جھڑنے کے بعد پہلے ایک ٹہنی سوکھی ، پھر دوسری بھی اسی راستے پر نکل گئی یوں قصہ تمام ہوا ۔ اور مجھ سے پوچھئے تو اچھا ہی ہوا ۔ وہ افسوسناک حوالوں کی پیداوار تھا جو بعد میں میری سمجھ میں آئے ۔ بہر حال سیکھنے کا عمل عمر بھر جاری رہتا ہے اور رہنا بھی چاہئے ، فلاح اسی میں ہے ۔
میرے گلاب خوب دہک رہے ہیں ۔ با ہری دروازہ جیسے ہی کھلتا ہے ، خوشبو کا جھونکا لپک کر آتا ہے اور آکاس بیل کی طرح میرے چاروں طرف لپٹ جاتا ہے ۔ ہمارے پہلے والے گھر میں رات کی رانی اور موتیا بھی لگائے تھے ۔ جب ہم اِس گھر میں آ رہے تھی تو میری دوست نے کہا کہ ہمیں چاہئے پودے نکال کر لے جائیں ۔ میں ہنس کر چپ ہو رہی ۔ کیا کہتی کہ کسی کو تو اپنی زمین سے جُڑا رہنے دیں ۔ ہم ہجرتوں کے مارے لوگ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اجنبی زمینوں میں جڑیں اُگانا آسان نہیں ہوتا ۔
ہم پہلی پیڑھی ہیں مگر دوسری پیڑھی سے نئی جڑیں مضبوط ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اجنبیت کا احساس اجنبی ہونے لگتا ہے ۔ تو بہتر ہے کہ ان پودوں کو وہیں رہنے دوں ۔ ٖ
فلوریڈا کی اور اچھی باتوں میں ایک بات یہاں مالٹے کے باغات کی فراوانی ہے اور جب ان درختوں میں پھول آتے ہیں تو ان کی خوشبو سے قرب و جوار مہکنے لگتے ہیں اور اب وہی دن ہیں جب لیک جیس اپ میں فشنگ کرنے جائیں تو لگتا ہے مچھلیاں بھی خوشبو سونگھنے پانی کے بالکل اوپر تیر رہی ہیں ۔۔۔
میں کہاں تھی ؟
کیا بات کر رہی تھی ؟
ذہن پوری چھٹی پر تھا
پتہ نہیں کہاں بھٹکا دیا اس نے ۔
سکیوریٹی سسٹم ،دروازے کھڑکیاں پھر کتاب
!اور نیند
شب بخیر پیارے دوستو !!۔
3/17/2015
Orlando

Share and Enjoy:
  • Facebook
  • Twitter
  • del.icio.us
  • StumbleUpon
  • Google Bookmarks
  • LinkedIn
  • Live
  • Tumblr

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *