kitab e zindagi …

 

کون؟ کون ھے؟ اس نے سر اٹھا کر کمرے میں پھیلی مدھم روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی مگر کمرے میں تھا ھی کون۔ اس نے پھر تکۓ پر سر رکھ دیا اور سونے کی کوشش کرنے لگی مگر نیند ایک بار اچٹ جاۓ تو پھر دیر ھی سے آتی ھے۔ کچھ دیر بعد اٹھی اور پانی پینے کے لۓ چلی گئ ۔ ۔پانی کا گلاس ہاتھ میں لے کر کمرے کی طرف آتے ھوۓ دروازے کے اوپر لگے شیشے سے آخری تاریخوں کا چاند نظر آ رھا تھا، آدھا اور کسی بوڑھے کی مانند کبڑا اور جھکا ھوا۔ پھیکی ، بیمار چاندنی کی چادر میں لپٹا ، شرمندہ۔ کچھ دیر کھڑی وہ اسے ھی دیکھتی رھی پھر کچھ ہنس کر سر جھٹکتی کمرے کی طرف چلی گئ ۔نیند اب پوری طرح غائب ھو چکی تھی ۔ پانی کا گلاس اس نے آدھا پیا اور میز پر رکھ دیا اور کتاب اٹھا کر پھر کمرے سے باہر چلی گئ ۔ مگر کتاب میں بھی دھیان لگ نہیں رھا تھا ۔ جانتی تھی ، نیند اچٹ جانے کی وجہ جانتی تھی مگر جان کر بھی کیا ، کچھ ھو سکتا تھا ؟ بالکل بھی نہیں ، یہ وہ جانتی تھی ۔۔۔ اچھی طرح سے جانتی تھی ایک وقت آیا تھا جب اسے اپنی کوششیں کامیا ب ھوتی لگی تھیں مگر بات صرف اُسی تک تو محدود نہیں تھی اس رستے پر کسی اور کی بھی نظرٰیں لگی رھتی تھیں ، منتظر ! مگر وقت آگے جا چکا تھا۔ پیڑوں کے نیچے اب صرف خاموشی تھی اور ہوا ئیں سر برہنہ خاک اڑاتی پھرتی تھیں ۔ ایک وقت تھا جب اس نے کچھ لفظ اپنی ہتھیلیوں پر رکھ کر اسے ہدیہ کۓ تھےجو اس نے بہت خوش ہو کر اٹھا لۓ اور اس کی خالی ہتھیلیاں واپس کر دیں۔ اپنے روزمرہ سے کچھ لمحے اٹھا کر ان خالی ہتھیلیوں پر رکھنے کا اسے خیال بھی نہیں آیا یا شائد آیا مگر ۔۔۔ شائد عافیت پسندی نے اسے آنکھیں چرانے کے لۓ کہہ دیا۔ کسی کو کیا معلوم !۔

اس نے کتاب بند کر دی اور آنکھیں بھی بند کر کے وقت کے تعاقب میں نکل گئ ۔ آج کی رات کہیں کوئ بہت بے چین تھا ۔ مگر اب اسے خود
سے کۓ وعدے یاد تھے اور یاد رکھنے تھے ۔ یہ وعدے کسی سکون کا باعث ھوتے ھیں ، نہیں ھوتے ھیں ، جاننا بھی نہیں تھا

تمھیں یاد ھے وہ لڑکی جس نے سکول آڈیٹوریم کی سیڑھیوں پر چُپ بیٹھی لڑکی سے کہا تھا “کبھی ایسے مت کرنا” اور ھوا میں ہاتھ
اُٹھاۓ چٹکییاں بجاتی برآمد وں میں کہیں غائب ھو گئ تھی” ۔۔۔۔
( کتابِ زندگی سے ایک اقتباس )

Share and Enjoy:
  • Facebook
  • Twitter
  • del.icio.us
  • StumbleUpon
  • Google Bookmarks
  • LinkedIn
  • Live
  • Tumblr

One thought on “kitab e zindagi …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *