4 aktubar …

ہفتہ 4 اکتوبر 2014 جب موسم بدلنے کی خبر آئی

آج چاند نہیں نکلا

کل روشندان کے عین اوپر کھڑا جھانک جھانک کر دیکھ رھا تھا ۔ میں نے پیچھے ہٹ کر دیوار سے لگ کر سر اوپر اُ ٹھایا ، بہتر نظارے کے لئے تو وہ مسکرا دیا اور روشنی کی ایک کرن میری طرف پھینکی جو شیشے سے لگ کر وہیں ٹھہر گی ۔ وہ چھچھورا یوں ہنسا جیسے بڑا لطیفہ ہوا ہو ! ایسے چھچھورے کھیل اچھے نہیں لگتے مجھے ۔ جی میں آئی کہ ڈانٹ دوں مگر میں ایسا کیسے کر

سکتی تھی ۔۔۔ چاند کو ڈانٹ دوں تو پھر باقی کیا رہ جائے گا تنہائی کی رتوں میں پھر کون باتیں کرے گا ، دِل بہلائے گا اور اپنے چوڑے چہرے پر محبت کا چشمہ لگا کر ہنسائے گا کون ؟ وہ پھر کھلکھلا کر ہنسا اور اوپر اُٹھتا ہوا آفاق کی نیلاہٹوں میں گھرے گھر روشنی کی کرنیں لُٹانے چل دیا ۔ میں نے دیوار کا سہارا چھوڑا اور اس کی حرکتوں پر چپکے ، چپکے مسکراتی اس کے پیار کے پیار ے

احساس سے خوشبو کی طرح لپٹی وہاں سے ہٹ گئی

آج آسمان پر بادل تھے اور افلاک میں کہیں روشنی کی کوئی کرن تک نہ تھی آج میں وہاں دیر تک اُس کی راہ دیکھتی کھڑی تھی مگر سوائے تاریکی وہاں کچھ تھا ہی نہیں ۔ نہ کوئی روشنی کی کرن ، نہ شرارت کی ہنسی اور نہ ہی گول چہرے پر ٹکا جھوٹ موٹ کا چشمہ ۔ اداس دل،

بوجھل قدم شام آہستہ سے گزر بھی گئی۔

موسم بدل رہا ہے

بالکل تو نہیں مگر بدلا ضرور ہے ۔ کل رات کے کھانے پر علی اوسط نے کہا کہ صبح جب نماز کے لئے اُٹھیں گے تو درجہ حرارت ساٹھ ڈگری ھو گا

او ھو ، پھر تو اچھی سردی ھو گی ، علی اول نے کہا ۔ دوسری پریشانی علی اول کو اس اعلان سے یہ ھوئی کہ صبح میں عید کی نماز میں کُرتا پاجامہ پہن کر جانے کا اِرادہ تھا اور اس درجہ حرارت میں ایسے لباس میں سردی لگے گی ۔ اب نئے سرے سے سوچنا پڑے گا کہ کیا کریں ، کیا پہن کر جائیں کہ سردی کا سد ِ باب بھی ھو۔

عید کی نماز کا وقت بھی تو صبح کے آٹھ بجے رکھا ھے دور سے آنے والوں کے لئے سہولت کا وقت نہیں ھے یہ ۔ علی آخر نے کہا ۔ میرا خیال ھے میں اپنے گھر سے سیدھا وہاں چلا جاؤں گا۔ ۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد علی آخر نے اپنی بات پوری کی۔ علی اول اور علی اوسط کا خیال بھی یہی تھا ۔ ویسے بھی ان دونوں کا خیال ھے کہ علی آخر سوائے ، اگر کوئی جہاز پکڑنا ھو ، کبھی ، کہیں وقت پر نہیں پہنچتا ۔ خیر ہر کوئی رائے رکھنے کا مجاز تو ھے نا؟

مجھے سردیوں کا موسم اچھا لگتا ھے ۔ بہت سی بُھولی بِسری یادیں لے کر آتا ھے۔ جیسے گھاٹ گھاٹ پر رکتا ٹھہرتا مسافر کہانیاں ، قصے باتیں اور بولیاں جمع کرتا ، سب ایک پوٹلی میں باندھے

ایک دن چپکے سے آ کر دروازہ کھٹکھٹا دے اور سب جنے لحافوں میں لپٹے اپنے اندر کی حرارت سے آسودہ ، اس گٹھری سے نکلتے ایک ایک موتی پر سے وقت کی گرد جھاڑتے اسے پیار کے ہاتھوں میں پرولتے ، کسی دوسرے وقت کے لئے پھر احتیاط سے واپس رکھ دیں۔ میرا لحاف بنفشے کے رنگ کا تھا جس کی گوٹ کاھی رنگ کی تھی ۔ رنگوں میں میرے پسند کے رنگ نیلا اور زرد رنگ ھیں مگر لحاف کے لئے یہ رنگ میں نے اماں سے ضد کرکے خریدوائے تھے ۔ سردیوں کا نام آتے ھی نگاہ میں بنفشے کا رنگ کاہی رنگ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مسکرانے لگتا ہے ۔ ہمارے گھر کے باہری گیٹ کے پاس گلاب کا پودا کئی برس پہلے لگایا گیا تھا جو اب ایک جھاڑ بن چکا تھا اور اس پر تمام موسم سردی کا ، گہرے بنفشئی رنگ کے گلاب آیا کرتے تھے۔ جب اماں نے مجھ سے رنگوں کی بات کی تو ہرے پتوں کی قبا اوڑھے یہی گلاب سامنے آئے اور میری پسند بتا دی۔ اب سردیاں آتے ہی جب لحاف نکلتے میرے بدن میں گلاب کھلنے لگتے اور ہتھیلیاں اس کی نرمی کو محسوس کرتیں تو اُنگلیوں کی پوریں روشن ہو جاتیں

سردیوں میں رات کے کھانے کے بعد ,گئی رات تک میرے سرہانے کا چھوٹا لیمپ جلتا رہتا اور میں اپنی ٹھوری تک اپنے لحاف میں لپٹ کر کتاب پڑھتی رہتی ۔ کوئی دن ایسے بھی آتے کہ سرہانے کا لیمپ جلتا رہتا اور میں جانے کیا سوچتی رہتی کچھ تو سوچتی ہوں گی ۔۔۔ ایک حیرت ، انجانے کا خوف ِ یہی ہوگا ۔۔۔ اس عمر میں یہی تو ہوتا ھے سوچنے کے لئے

آتی سردیوں کے آنے کا انتظار ، اگست کا آخر آتے آتے خود بخود شروع ہو جاتا ھے ۔۔۔۔ جب سائے لمبے اور نرم ہو جاتے ہیں اور دھوپ پیار سے لپٹ جانے کا کھیل شروع کر دیتی ھے ! یہ آنکھ مچولی اکتوبر تک جاری رہتی ھے اور اکتوبر کے آتے ہی سردیاں کسی بھی دن آنگن میں اُتر آتی ہیں۔ ہفتے کی رات کو اگر علی اوسط نے فجر کا درجہ حرارت ساٹھ ڈگری ہو گا ، کہا ۔ تو یہ آتی سردیوں کا پہلا دن ہی ہوا نا ؟

مگر یہ فلوریڈا ہے _ کچھ تھوڑا اکھڑ اور من مانی کرنے میں اُستاد! موسم کا مزاج ؟ گھڑی میں تولہ

گھڑی میں ماشہ ۔ ہمارے گھر میں سارا سال ایر کنڈ یشنرز چلتے ھیں ۔ ہلکے کمبلوں میں مزے سےسوتے ھیں محکمہ موسمیات والے رات کی خبروں میں اگلے دِن کے لئے جو بھی کہیں اس پر پورا یقین کبھی نہیں کرتے۔ عقلمندی اسی میں ھے اپنی عقل استعمال کی جائے اور بس ورنہ بارش کا سن کر نکلیں گے اور سارا دن چھتری اُ ٹھائے پھریں گے ۔ یہاں کا موسم ایسا بے ایمان ھے کہ دسمبر میں جون کا مہینہ بھی چکر لگا لیتا ھے کبھی کبھی۔ اور کبھی تو کرسمس کے موقعے پر سردیوں کا فریب دینے کے لئے کھڑکیوں کے شیشوں پر روئی چپکا کر ماحول تیار کرنا پڑتا ہے ۔

سردیوں میں ھمارے ساحلوں پر ایک مخلوق اور اترتی ھے۔ یہاں کی زبان میں انہیں “ سنو برڈ” کہتے ھیں ۔ یہ بیچارے ریت اور دھوپ کی تلاش میں نارتھ سے ساؤتھ کی طرف پرواز کرتے ھیں اور پورا ، پورا دن مگر مچھوں کی طرح ھمارے ساحلوں کی ریت پر لیٹے دھوپ کھاتے رہتے ھیں مگر موسم ان کے رنگ میں بھی بھنگ ڈالنے سے باز نہیں آتا اچانک کسی دن سا ئبیر یا کی ہوائیں فلوریڈا کا رُخ کر لیتی ھیں اور نارتھ کے برف کے طوفانوں سے بھاگ کر گرمی کی تلاش میں آئے سنو برڈ ادھار کے گرم کپڑے پہنے ،کمروں میں بند، انگیٹھیاں تاپتے ہیں۔ غالبا” یہ 1997 کی بات ھے کہ ھمارے اُ س وقت کے گھر کے قریب کے مڈل اسکول میں رات میں گھاس اور پودوں کو پانی دینے کا سسٹم چلا تو صبح میں درختوں پر آئیسیکل لٹک رھے تھے۔ یعنی رات میں درج حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے چلا گیا ہو گا کہ جہاں جہاں پانی گرا، برف بن گیا اور اس پر اور غضب کہ شام تک کے لئے بجلی بھی غائب ۔ وجہ ؟ گھرے گھر ہیٹر چلنے کی وجہ سے ٹرانسفارمر اُڑ گیا تھا ۔ فلوریڈا زندہ باد ۔

اب کے ایک بات یہ ھو گئی ہے کہ سردیوں کی باقاعدہ آمد سے پہلے ہی اس کے سواگت میں کبھی ناک بند ہو جاتی ہے اور کبھی بہنے لگتی ھے اور کبھی ایک ہی وقت میں چار چار چھینکیں آ جاتی ہیں ۔ چھینکوں کا کہتے ہیں کہ ایک چھینک آئے تو بس ایک چھینک ہی ہوتی ہے۔ دو ایک ساتھ آجائیں تو کسی نے آپ کے بارے کوئی بات کی ھے – اچھی ، بُری – بس کوئی بات۔ تین ، ایک کے بعد ایک آ جائیں تو کسی نے آپ کو یاد کیا ھے – بہت پیار سے یاد کیا ھے ۔۔۔ یہاں زیادہ زور پیار پر ہے ۔ اور اگر چار چھینکیں ایک ساتھ !! تو جناب آپ کو نزلہ ھوا ہے یا ہونے والا ہے ۔

اب میں کیا کروں ؟ چار چھینکیں تو آگئیں۔ تین آ جاتیں تو کس کا کیا بگڑتا تھا !! اب صبح میں دوائیوں کا ڈبہ کھول کر دیکھنا پڑے گا کہ علاج کس سے کیا جائے اگر علی اول سے بات کی تو جوشاندہ پینے کا مشورہ ملے گا اور یہ بھی کہا جائے گا کہ ایک کپ مجھے بھی دے دینا ۔۔۔ آخر ایک کمرہ ہے اور بستر بھی ایک اور تو اور ٹی وی بھی تو ھم ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں ۔ بھئی ایک کپ جوشاندہ بنا دینا یاد سے ۔ گویا چھینکیں ائیں مجھے ، ناک بند ہو میری ، ناک بہے تو وہ بھی میری مگر علی اول کے لئے اب جوشاندہ بنانا واجب !! ٹھیک ہے جناب ، بن جائے گا ۔

آجکل مجھے چاروں طرف سے گھیرا جارہا ھے کہ فلو شاٹ لے لوں۔ جہاں بھی جاؤں فلو شاٹ کا تذکرہ۔ علی اول اور علی اوسط عہد کرچکے ہیں کہ میرا کھانسنا چھینکنا بند ہوتے ھی وہ مجھے زبردستی فارمیسی لے جائیں گے اور فلو کا ٹیکہ لگوا کے رہیں گے۔ لو جی ، اچھی زبردستی ھے ! ٹھیک ہے، ہم بھی دیکھیں گے ۔ سچ پوچھیں تو پچھلے برس جیسا کولڈ ھوا ، میں نے جبھی عہد کر لیا تھا کہ آتی سردیوں میں ضرور فلو شاٹ لوں گی مگر اب کے اس نے بہت جلدٰ کی اور اس سے پہلے کہ فارمیسیوں میں ٹیکے آتے، مجھے ہی نزلہ ہوگیا ،اب کم از کم ایک طرح کے وائرس سے تو، میرے امیون سسٹم کے اندر مدافعت کی قوت پیدا ہوگئی آئیندہ کو آئیندہ دیکھ لیں گے ! مگر ہر کوئی میری طرح سوچتا بھی تو نہیں ۔ خیر ھم بھی دیکھیں گے ۔

مجھے چہرے اچھے لگتے ہیں۔ چُپ چہرے مجھ سے باتیں کرتے ہیں ، میری باتیں سُنتے ہیں ۔ چاند کے جیسے طباق چہرے ، کھلی کتاب چہرے ، کسی آیت کے جیسے نوری چہرے ۔ اپنے میں آپ چہرے ۔ مطمئن ، سوچ سے آسودہ ۔۔۔ اچھے لگتے ہیں ، ان پر لکھی تحریریں آسمانی صحیفوں کی مانند میرے وجود کی شجرکاری کرتی ہیں ۔ یہی چہرے ہیں جن کو روز ِ ازل اللہ نے خود اپنے نوری ہاتھوں سے بنایا اور محبت کے اس لمحے جب اُس نے رو ح پھونکی تو ساتھ میں اپنی خوبیاں بھی دے دیں، تخلیق کے سارے رنگ ودیعت کر دئے ، پھر اپنی تقویم پر پیدا کیا کہ اس چہرےکو دیکھو تو اس سے محبت کرنا واجب ہو جائے۔

عید ِ غدیرآئی اور چلی بھی گئی ۔

جب میرے رسول نے حج سے واپسی میں غدیر ِ خُم پر سب کو روکا اور میرے مولا علی کو کندھوں سے اونچا اُ ٹھا کر کہا “ جس کا میں مولا ، اُس کا علی مولا” تو اس چہرے کو دیکھنا اور اس سے محبت کرنا واجب ہو گیا۔۔۔۔ مگر پھر جس نبی اللہ نے ہر طرح کی سختی اور مخالفت برداشت کی اور کسی دشمنی کرنے والے کو بُرا نہ کہا، اب پہلی بار کسی کے لئے بد دعا کی جب کہا کہ” جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے خدا سے دشمنی کی اور جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور ایسے لوگ تباہ اور بدنام ہوں گے اور کوئی انہیں اچھے نام سے یاد نہیں کرے گا ۔ “ اس کو پروفیسی کہہ لیں یا کچھ اور مگر آج کی صورت ِ حال ایسی ھی ھے۔

اگر کوئی اپنے مدار سے ہٹ گیا ھے تو وہ میں ہوں۔ بہت عجیب کیفیت ہے ۔ جب میں ایک جگہ پر بیٹھ کر کوئی کام جم کر کر نہ سکوں ، کبھی کلازٹ میں ، کھڑی یہ سوچوں کہ کیا کرنا تھا؟ کبھی پودے، جن کو کل ہی پانی دیا تھا پھر گلاس بھر پانی انڈیل دوں ۔ مکئی دانوں کا پیکٹ پینٹری سے نکالوں اور اسے مائکرو ویو میں ڈالتے، ڈالتے ارادہ بدل دوں تو ضرور میرا کوئی پیچ ڈھیلا ہو گیا ھے ۔ مگر سب جانتے ہوئے بھی میں خود کو یقین د ِلاتی ھوں کہ سب ٹھیک ہے ، سب با لکل ٹھیک ہے ۔ اپنے اپنے مدار میں ھم سب اپنی زندگیوں میں مصروف ہیں ۔ ایک دوڑ دھوپ، ایک تگا دو ۔۔۔۔ سب چلتا ہے۔ آپ کے پاس وقت نہیں، میرے پاس وقت نہیں ھم وقت کی رسیوں میں بندھے ، ایک ہی سمت چلے جارہے ہیں قدم ، قدم، ایک پیر کے پیچھے دوسرا پیر ، چلتے رہئے، بس چلتے جائے۔ ذرا کوئی اِ د ھر سے اُد ھر نہ ہو۔ بالکل نہیں ۔

بعض اوقات آسمان بہت محدود دکھائی دینے لگتا ہے جیسے ایک پیالہ او ند ھا پڑا ہو اور ہم سب اس کے اندر بیٹھے، کھڑے، چلتے پھرتے اپنی اپنی دوڑ دوڑ رہے ہوں۔ ؐمیں اس وقت بی جے۔۔ز کی پارکنگ میں بیٹھی ہوں ، تا حدِ ، نظر نیلا آسمان اور اس گول پیالے کے کناروں پر دھنکی روئی جیسے بادل ! بادل نہیں ۔۔۔ جیسے نیلے پیالے کے کناروں پر سفید رنگ سے بنایا جالی کا ڈیزائین ۔ مگر پیالہ اوندھا ہے اور ہم جو بھی دیکھتے ہیں اندر سے دیکھتے ہیں ۔ دھوپ تیز ھے ، کبھی آتی ہے ، کبھی جاتی ہے ۔ میری دائیں طرف ایک بائیکر اپنی موٹر سائیکل سے ٹیک لگائے اپنے فون پر کسی کو ٹیکسٹ کر رہا ھے دونوں بازوؤں پر ٹیٹوز کھدے ہیں ۔ کیسا تکلیف دہ شوق ھے! جسم ، کوئی بھی ، کسی کا بھی ، اللہ کی نعمت ہے اس کو یوں کسی سوئی ، سلائی سے گودنا ، کھودنا ، کس لئے؟ جانور – گھوڑے ، بیل ، بھینس کو داغنا ، مالکانہ حقوق کا اعلان کرنا ھے، حفاظت بھی کہ کوئی چُرا نہ لے ۔

مان لیا ، مگر جسم تو اپنا ھے ،کون چُرا رہا ھے اس کو ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر رات میں وہ اُس کی کمر پر اپنے ہاتھوں سے گودے شاہکار اپنی اُنگلیوں سے محسوس کرتا ۔ پھول ، پتے، وہ دریا سے اُٹھتی دھند میں کسی خواب کی مانند اُبھرتا پُل ، زمانوں میں قید عمارتیں ، یہ سب اُس کا ماضی تھا جو اس خو بصورت ، دودھیا کمر پر زندہ ہر شب اُ سے کچھ اور جی لینے کا حوصلہ دیتا تھا ۔ پھر وہ سیدھے ہو کر اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اس کا چہرہ اپنی طرف

جھکاتی اور اُس کے ہونٹوں پر ایک بوسہ رکھ دیتی ۔ باہر رات مُسکراتی اور دونوں کو اپنی چادر میں چھپا کر مشرق کی طرف کچھ اور جھک جاتی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے گلابوں میں کلیاں آ رہی ہیں ۔ گاڑی گراج میں لے جاتے ہوئے نظر آئیں تو میں گاڑی سے اُتر کر اُسی طرف چلی گئی ۔ باہری دروازے کے آگے ایک قطار میں اُگے گلاب گرمی کی شدت سے نڈھال رھے تمام موسم ۔ پچھلے ہفتے اُن میں ایپسم سالٹ اور میگنیزیم ڈالا تو اب جیسے چونک کر اُٹھ بیٹھے ہیں آئندہ دِنوں میں بہت پھول آنے کی اُمید ہے ۔

موسم بدل رہا ھے ، سردیاں آ رہی ہیں

میں خوش ہوں۔

Share and Enjoy:
  • Facebook
  • Twitter
  • del.icio.us
  • StumbleUpon
  • Google Bookmarks
  • LinkedIn
  • Live
  • Tumblr

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *